تفسیرِ قرآن کی اساسیات ومبادیات (مقدمہ تفسیر ابن عطیہ کا خصوصی مطالعہ )

THE FOUNDATIONS AND PRINCIPLES OF THE QUR’ĀNIC INTERPRETATION (SPECIALIZED STUDY OF TAFSĪR IBN ‘ATIYYAH’S PREFACE)

Authors

  • Dr. Asma Shahid
  • Dr. Muhammad Farooq Haider Associate Professor GC University Lahore

Keywords:

Qur’ānic Sciences, , Preface, , Exegesis, , Ibn ‘Aṭiyyah, , Seven Dialects, , Arabicized Words

Abstract

The tradition laid by Imām Ṭabarī to discuss the Qur’ānic Sciences in the preface of the exegesis was carried forward by later exegetes in their specific way. Ibn ‘Aṭiyyah Andalusī (d. 541 A.H.) is also one of those great exegetes, who placed such prefaces at the start of their magnificent and discursive Qur’ānic Commentaries, which contain novel discussions of the Qur’ānic Sciences. The name of exegesis by Ibn ‘Aṭiyyah is “Al-Muḥarrar al-Wajīz fī Tafsīr al-Kitāb al-‘Azīz” which has been published in six volumes. The first volume opens with a comprehensive preface in which the author divided the discussions of the Qur’ānic Sciences into nine chapters. The most important and prominent ones are The Qur’ānic Interpretation and Ranks of Interpreters, The Revelation of the Qur’ān on Seven Dialects, and Arabicized Words of the Qur’ān. Ibn ‘Aṭiyyah not only quoted the maxims but also stated their preference. Moreover, the ornamented his stances through his diligent approach.

Author Biographies

Dr. Asma Shahid

Lecturer

Government Associate College Shuja Abad

Multan

Dr. Muhammad Farooq Haider, Associate Professor GC University Lahore

Associate Professor

Department of Arabic & Islamic Studies

GC University Lahore

References

۔ نسب نامے میں مؤرخین نے آپ کے دادا کے نام میں اختلاف کیا ہے، سیوطی اور کتانی نے عبدالرحیم (عسقلانی،ابن حجر،الدررالکامنہ،بیروت،دار الاحیاءالتراث العربی،س،۲/۷۳،کتانی،فہرس الفہارس،بیروت، دار الغرب الاسلامی ۱۹۸۲، ۲/۸۶۴)صفدی اور کتبی نے عبدالملک(صفدی،وافی بالوفیات،دار احیاءالتراث العربیہ، ۲۰۰۰ء، ۸/ ۴۱،کتبی، محمد بن شاکر ،فوات الوفیات ،بیروت، دار صادر ،۱۹۷۳، ۳/۲۵۶) جبکہ معجم المؤلفین اور بغیۃ الملتمس میں عبدالرحمٰن(عمر رضاکحالہ،معجم المؤلفین ، بیروت ،دار احیاء التراث العربی،س۔ن،۵/ ۹۳ ،احمد بن یحیٰ،بغية الملتمس فی تاريخ رجال أهل الأندلس ،القاہرہ،دار الكتاب العربی،۱۹۶۷،۱/ ۳۸۹)مرقوم ہے۔ممکن ہے القابات کی وجہ سے ایسا ہوا ہو۔البتہ احاطہ اور قلائد العقیان اور بغیۃالملتمس میں آپ کے والد محترم کے ترجمہ کو تحریر کرتے ہوئے دادا کا نام عبدالرحمٰن ہی لکھا گیا ہے۔

۔ فتح بن خاقان،قلائد العقیان،مصر،۱۸۶۶، ج ۱، ص ۲۰۶

۔ ابن خلکان،احمد بن محمد، وفيات الأعيان وأنباء أبناء الزمان،بیروت، دار صادر،۱۹۹۴، ج ۲، ص ۱۸۰

۔ ان کا نام حسین بن محمد بن فیرہ بن حیون بن سکرہ تھا (زرکلی ،الاعلام،بیروت،دارالعلم،للملایین،۱۹۹۷، ج ۲،ص ۲۵۵، کتانی ، فہرس الفہارس، ج ۲، ص ۷۰۵، صفدی ، وافی بالوفیات ،ج۱۳، ص ۲۸)

۔ صفدی،وافی بالوفیات ،ج۴، ص ۲۲۶،کتانی ،فہرس الفہارس، ج ۱، ص ۴۷۱،زرکلی،الاعلام، ج۶، ص ۳۲۸

۔ زرکلی،الاعلام،ج ۷، ص۹۵

۔ زرکلی،الاعلام،ج۵، ص۳۱۹،کتانی،فہرس الفہارس ،ج۱، ص ۳۰۷

۔ سیوطی،جلال الدین،بغیۃ الوعاۃ،المکتبۃ العصریہ،س۔ن،ج۲، ص ۸۵، صفدی ،وافی بالوفیات،ج۱۸، ص ۱۵۴،زرکلی ، الاعلام ،ج۳، ص ۳۲۸

۔ صفدی، وافی بالوفیات،ج۲۱، ص ۹۸

۔ ایضاً،ج۱۹، ص۱۵۱،زرکلی ،الاعلام ج۴، ص۱۶۸

۔ ذہبی، محمد بن أحمد بن عثمان، أبو عبد الله ،تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام،(المحقق: عمر عبد السلام التدمري)، بیروت،دار الكتاب العربي،۱۹۹۳،ج ۳۷،ص ۷۴

۔ ابن خطیب،لسان الدین ،الاحاطہ فی اخبارغرناطہ،بیروت،دارالکتب العلمیہ،۱۴۲۹ھ ،ج۳،ص۴۱۲،صفدی،وافی بالوفیات ،ج۸،ص۴۱،ابن فرحون ،دیباج المذہب فی معرفۃ اعیان علماء المذہب،قاہرہ، دارالتراث للطبع والنشر،س۔ن، ج۱،ص ۱۷۴، کتبی ،محمد بن شاکر، فوات الوفیات ،ج۳،ص ۲۵۶

۔ ابو حیان اندلسی، البحرالمحیط،بیروت ،دارلفکر،۱۹۹۲ء،ج۱،ص۱۴

۔ ابن عطیہ،عبدالحق بن غالب،المحررالوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز،بیروت،دالکتب العلمیہ،۲۰۰۱ء،ج۱،ص۳۳

۔ ایضاً،ج۱،ص۳۴

۔ ترمذی ،السنن، ابواب فضائل القرآن ،(ح:۲۹۰۶)،ابن عطیہ:المحررالوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز،ج۱،ص۳۶

۔ ابن عطیہ،عبدالحق بن غالب،المحررالوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز ،ج۱،ص ۳۹

۔ ایضاً،ج۱،ص ۴۰

۔ بیہقی،شعب الایمان ، فصل فی ترک التفسیر بالظن ،(ح:۱۰۹۲،ح:۲۰۹۴)، ابن عطیہ،المحررالوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز،ج۱،ص۳۷

۔ طبری،جامع البیان ،مصر، مطبعہ مصطفیٰ البابی الحلبی واولادہ بمصر ۱۹۴۵ء،ج۳،ص۹۰، ابن عطیہ،المحررالوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز،ج۱،ص۴۰

۔ ابن عطیہ،المحررالوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز،ج۱،ص۴۰

۔ ایضاً ،ج۱،ص ۴۰

۔ ابو داؤد، السنن ، کتاب التفسیر، باب الکلام فی کتاب اللہ بغیر علم،(ح:۳۶۵۲)،ترمذی،السنن ، ابواب التفسیر ، باب ما جاء فی الذی تفسیر القرآن بروایہ(ح:۲۹۵۲)، طبری،جامع البیان،ج۱،ص۴۵، ابن عطیہ،المحررالوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز،ج۱،ص۴۱

۔ ابن عطیہ،المحررالوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز،ج۱،ص۴۱

۔ ایضاً،ج۱،ص۴۲

۔ ابن عطیہ،المحررالوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز ،ج۱،ص۴۳

۔ ایضاً

۔ ایضاً

۔ ھود۱۱: ۷۸

۔ سبا۳۴: ۱۹

۔ البقره ۲: ۲۵۹

۔ القارعہ۱۰۱: ۵

۔ الواقعہ ۵۶: ۲۹

۔ ق۵۰: ۱۹

۔ ص۳۸: ۲۳

۔ ابن عطیہ،المحررالوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز،ج۱،ص۴۳

۔ ابو عبید نے یہ مؤقف اپنی کتاب فضائل القرآن میں بیان کیا ہے (ابو عبید قاسم بن سلام،فضائل القرآن، بیروت، دارالکتب العلمیہ۱۶۱۱ھ،ص:۲۰۳)

۔ بخاری،الجامع الصحیح،کتاب فضائل القرآن ، باب انزل القرآن علی سبعۃ احرف(ح:۴۹۹۲)و کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ فاقرءو ما تیسر منہ،(ح:۷۵۵۰)

۔ ابن عطیہ،المحررالوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز،ج۱،ص۴۵

۔ ایضاً،ج۱،ص۴۵-۴۶

۔ ایضاً

۔ فاطر۳۵: ۱،الزمر۳۹: ۴۲

۔ الاعراف۷: ۸۹

۔ النحل ۱۶: ۴۷

۔ ابن عطیہ،المحررالوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز،ج۱،ص۴۷

۔ المزمل۷۳: ۶

۔ ابن عطیہ،المحررالوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز،ج۱،ص۴۷

۔ المزمل ۷۳: ۲۰

۔ بخاری،الجامع الصحیح،کتاب فضائل القرآن،باب انزل القرآن علی سبعہ احرف ،(ح:۴۹۹۲)

۔ ابن عطیہ:المحررالوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز،ج۱،ص۴۷

۔ ایضاً،ج۱،ص۴۷-۴۸

۔ ایضاً،۱ج،ص۴۹

۔ بخاری،الجامع الصحیح،کتاب فضائل القرآن ،باب جمع القرآن،(ح:۴۹۸۷)وترمذی،السنن،ابواب التفسیر، باب ومن سورۃ التوبہ(ح:۳۱۰۴)

۔ بخاری،الجامع الصحیح،کتاب فضائل القرآن ،باب جمع القرآن،(ح:۴۹۸۷)، ابن عطیہ:المحررالوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز،ج۱،ص۴۹-۵۰

۔ البیہقی، السنن الکبریٰ، (ح:۲۳۷۴)

۔ ابن عطیہ،المحررالوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز،ج۱،ص۴۹-۵۰

۔ ایضاً،ج۱،ص۴۹

۔ ایضاً،ج۱،ص۵۰

۔ ایضاً

۔ ایضاً،ج۱،ص۵۱

۔ قرطبی،الجامع لاحکام القرآن،بیروت،دار احیاء التراث العربی،۱۹۸۵، ج۱،ص۲۴

۔ الشافعی،محمد بن ادریس ،الرسالہ،مصر،مکتبۃ الحلبی،۱۹۴۰ء،ص:۶۱

۔ سیوطی، الاتقان فی علوم القرآن،ریاض، مکتبۃ المعارف،۱۹۹۶ء، ج۱،ص۱۲۹

۔ ابن عطیہ،المحررالوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز،ج۱،ص۵۱

۔ ایضاً

۔ ایضاً،ج۱،ص۵۲

۔ ایضاًج۱،ص۵۳

۔ القصص ۲۸ :۱۱

۔ الاعراف۷: ۱۷۲

۔ ماخوذ ازابن عطیہ ، المحررالوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز ، ج۱،ص۵۴۔۵۵

۔ کتاب،کتب کا مصدر ہےجس کے معنی جمع و اکٹھا کرنے کے ہیں۔( ابن عطیہ،المحررالوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز،ج۱،ص۵۲)

۔ فرقان بھی مصدر ہے اس لیے کہ قرآن نے حق و باطل میں فرق کر ڈالا ہے۔(ابن عطیہ،المحررالوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز،ج۱،ص۵۲)

۔ ذکر اس لیے ہے کہ قرآن کی وجہ سے لوگ اپنی آخرت اور اپنے اللہ کو یاد کرتے ہیں اور کافروں کو یہ نصیحت اور یاد دہانی کرواتا ہے۔(ابن عطیہ،المحررالوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز،ج۱،ص۵۲)

۔ ابن عطیہ،المحررالوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز،ج۱،ص۵۲

۔ ایضاً

۔ ایضاً

۔ ماخوذ از ابن عطیہ ، المحرر الوجیز، ج۱،ص۵۶-۵۷

Downloads

Published

30-06-2022

How to Cite

Asma Shahid, & Dr. Muhammad Farooq Haider. (2022). تفسیرِ قرآن کی اساسیات ومبادیات (مقدمہ تفسیر ابن عطیہ کا خصوصی مطالعہ ): THE FOUNDATIONS AND PRINCIPLES OF THE QUR’ĀNIC INTERPRETATION (SPECIALIZED STUDY OF TAFSĪR IBN ‘ATIYYAH’S PREFACE). Zia E Tahqeeq, 12(23), 1–19. Retrieved from http://ziaetahqeeq.com/index.php/zt/article/view/77